کتاب "قیصری وکسری" نسیم حجازی کی ایک مشہور ادبی رقم ہے۔ یہ کتاب اردو ادب کی تحریک آفاق کی روشنی میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔
"قیصری وکسری" ایک تاریخی رومان ہے جس کا موضوع دو امپراطوری خلافتوں، قیصری خلافت اور وکسری خلافت، کے درمیان مذاکرات اور جنگوں پر مبنی ہے۔ یہ کتاب فسانے کی شکل میں لکھی گئی ہے جو ادبیت کو تاریخی حقیقتوں کے ساتھ ملا کر پیش کرتا ہے۔
کتاب میں نسیم حجازی نے ایک رومانوی کہانی کے ذریعے عالمی تاریخ کی اہم واقعات کو بیان کیا ہے۔ قیصری وکسری دو بڑے خلافتوں کو مختلف زاویوں سے پیش کرتی ہے۔ اس کتاب میں عقیدتی، سیاسی اور فرهنگی مسائل پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
نسیم حجازی کی قلم نے "قیصری وکسری" میں تاریخی تفصیلات کو دلچسپی سے پیش کیا ہے۔ وہ اس کہانی کے ذریعے قارئین کو دوسری دنیوں کا سفر کرواتی ہیں۔ ان کی لکھائی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ادبی تصویریں بنا سکتی ہیں جو قارئین کے ذہن میں تصویر بناتی ہیں۔
"قیصری وکسری" نسیم حجازی کی ادبی کارکردگی کا ایک نمونہ ہے جو انہوں نے اردو ادب میں پیش کیا۔ اس کتاب کے ذریعے وہ ادبی افکار کو نقل کرنے کے ساتھ ساتھ تاریخی حقیقتوں کو بھی رومانی انداز میں پیش کرتی ہیں۔
"قیصری وکسری" نسیم حجازی کی اہم تصانیف میں سے ایک ہے جو اردو زبان کے قارئین کو تاریخی رومانوں کی دنیا میں لے جاتی ہے۔ اس کتاب نے نسیم حجازی کو ادبی دنیا میں ایک مقام حاصل کیا ہے اور اس کی خدمات اردو ادب کی روشنی میں نہایت قابل تعریف ہیں۔

