مصنف: مولانا سید المودودی
نام کتب: خلافت و ملوکیت
اس کتاب کو یہاں پر آپ لوگوں کیلئے پیش کرنے کا میرا مقصد امام حسن اور امام حسین علیہ السّلام کی حیات مبارکہ آپ کے سامنے لانا تھا۔اس کتب میں ان علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ذکر ہے۔سب بھائی لازمی پڑھیں۔
خلافت، ملوکیت، اور مولانا مودودی کے متعلق مضمون:
خلافت اور ملوکیت دو مختلف نظاماتِ حکومت ہیں، جن میں سلطنت اور قوانین کی تشکیل اور حکومت کے انتظامات مختلف طریقوں سے ہوتے ہیں۔ اس تبادلے کی بنیاد پر مختلف تاریخی مواقع پر مختلف مفہوم حکومتی نظامات کا اختیار ہوتا آیا ہے۔ مسلمانانہ تاریخ میں بھی اس موضوع پر مختلف مذاہبی، سیاسی اور فکری جنگیں دیکھی گئی ہیں، اور خصوصاً اسلامی تاریخ میں، خلافت اور ملوکیت کے مباحث مخصوص اہمیت رکھتے ہیں۔
مولانا ابوالاعلی مودودی، جو 1903ء میں ہندوستان کے بریلی (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے تھے، ایک مشہور اسلامی علماء، فکری اور سیاستدان تھے۔ انہوں نے اسلامی تاریخ کے مختلف جائزے لیے اور خصوصاً انڈیا کے مسلمانوں کے لئے ایک نئی سیاسی تنظیم تشکیل دی، جو بعد میں "جماعتِ اسلامی" کے نام سے مشہور ہوئی۔ انہوں نے خود کو ایک اصلاحی اور تعلیمی تنظیم کے طور پر پیش کیا اور اسلامی قیادت کو پاکستان کی بنیاد میں اہم کردار ادا کیا۔
مولانا مودودی کے فکری اور سیاسی مواقف میں، خلافت اور ملوکیت کے موضوع پر بھی اہم نظریات رکھی گئیں تھیں۔ ان کا نقطہ نظر تھا کہ اسلامی ریاست کو خلافتی نظام کے تحت چلایا جانا چاہئے جہاں ایک خلافتدار، یعنی کسی ایک خلیفہ کی رہائش اور قیادت میں مسلمانوں کے حکمرانی کا نظام ہو۔ ان کے موقف کے مطابق، اسلامی ریاست کی بنیاد خلافت پر ہونی چاہئے جو اسلامی تعلیمات کے مطابق چلتی ہو۔
اس کے برعکس، ملوکیت کا نظام، ریاست کو ایک بادشاہ یا ملک کے انتظامات میں چلانے کو کہتا ہے جو اپنی قوانین بناتا ہے اور اس کا حکمران اپنے علاقے میں مخصوص اختیار رکھتا ہے۔
مولانا مودودی کا موقف ان کے بعد پاکستان کی سیاست کو بھی متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی تشکیل دی گئی جماعتِ اسلامی نے بعد میں پاکستان کے سیاستی مناظر پر اپنا اثر ڈالا اور ان کی سیاستی تصوریات ملک کے مختلف حکمرانوں کو متعارف کروا دیا۔
اختتاماً، خلافت اور ملوکیت دو مختلف حکومتی نظامات ہیں، اور مولانا مودودی نے اپنے فکری اور سیاسی مواقف کے ذرائع سے ان دونوں موضوعات کو تبیین کیا اور اپنے تعلیمی تنظیم کے ذرائع سے ان کے فراق و فصل کو بھی سیاستی سطح پر منتقل کیا۔


