نام مصنف: طارق اسماعیل ساگر
نام کتب: حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ
حمودالرحمٰن کمیشن کو 1977 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے قائم کیا تھا تاکہ 1977 کے انتخابات میں ہوئے دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کی جا سکیں۔ کمیشن کی سربراہی جسٹس حمودالرحمٰن نے کی۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ 1978 میں پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور اس میں جنرل محمد ضیا الحق کے ملوث ہونے کا امکان تھا۔ رپورٹ نے جنرل ضیا الحق کو مستعفی ہونے اور انتخابات دوبارہ کرانے کی سفارش کی۔ جنرل ضیا الحق نے رپورٹ مسترد کر دی اور خود کو مارشل لا آمر قرار دے دیا۔
حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ ایک اہم دستاویز ہے کیونکہ یہ پہلی بار تھا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کی تھیں۔ رپورٹ نے جنرل ضیا الحق کے مارشل لا آمریت کے لیے ایک بنیاد فراہم کی۔ رپورٹ نے پاکستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر بھی گہرا اثر ڈالا۔
حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ میں کچھ اہم نکات یہ ہیں:
- 1977 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔
- جنرل محمد ضیا الحق کے ملوث ہونے کا امکان تھا۔
- جنرل ضیا الحق کو مستعفی ہونا چاہیے۔
- انتخابات دوبارہ کرانے چاہییں۔
حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ ایک اہم دستاویز ہے جو پاکستان کے سیاسی اور سماجی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ رپورٹ نے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف لڑائی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ نے پاکستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر بھی گہرا اثر ڈالا۔


