عنوان: چیختی روحیں
مصنف: ابن صفی
سال اشاعت: 1959
موضوع:جاسوسی، خوفناک کہانی
کردار:
علی عمران: ایک خفیہ ایجنٹ
سلمان: عمران کا نوکر اور دوست
رئیس: عمران کا سربراہ
جمیلہ: ایک نوجوان لڑکی جو عمران کی مدد کرتی ہے۔
ڈاکٹر بشیر: ایک شرور سائنسدان
ڈاکٹر لکھن: ایک قدیم سائنسدان
چیختی روحیں: ایک پراسرار مخلوق جو لوگوں کو خوفزدہ کرتی ہے۔
::کہانی::
کہانی کا آغاز ایک ایسے جگہ سے ہوتا ہے جہاں عمران کو ایک ایسے قدیم قلعے کے بارے میں معلوم ہوتا ہے جہاں ایک پراسرار مخلوق رہتی ہے۔ عمران اس مخلوق کو تلاش کرنے کے لیے ایک مہم کی قیادت کرتا ہے۔
عمران اپنے مشن میں کامیاب ہوتا ہے، لیکن وہ جلد ہی ایک خطرناک گروہ کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتا ہے۔ گروہ عمران کو اغوا کر لیتا ہے اور اسے اپنے منصوبے میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
عمران کو چیختی روحوں کے ساتھ بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جو لوگوں کو خوفزدہ کرکے انہیں اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔
انٹرفیس کا آغاز ایک دلچسپ اور پرجوش اقتباس سے ہوتا ہے۔
چیختی روحیں: ایک ایسی کہانی جو آپ کو خوف سے کانپائے گی۔
انٹرفیس میں کہانی کا ایک مختصر خلاصہ۔
علی عمران، ایک خفیہ ایجنٹ، ایک پراسرار مخلوق کو تلاش کرنے کے لیے ایک مہم کی قیادت کرتا ہے۔ تاہم، وہ ایک خطرناک گروہ کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتا ہے اور چیختی روحوں کے ساتھ بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
علی عمران، سلمان، رئیس، جمیلہ، ڈاکٹر بشیر، ڈاکٹر لکھن، چیختی روحیں
انٹرفیس میں کہانی کے موضوعات اور پیغامات کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔
خوف، خطرہ، بقا، امید، طاقت، ظلم، انصاف، سائنس، تاریخ، روحانیت
مزید معلومات
یہ کتاب ابن صفی کے جاسوسی دنیا کے بارہویں ناولوں میں سے ایک ہے۔
کتاب میں ایک دلچسپ اور پرجوش کہانی ہے جو قاری کو ہر صفحے پر بٹھا دیتی ہے۔
کتاب میں کچھ خوفناک اور دلچسپ مناظر ہیں جو قاری کو خوف سے کانپائے دیتے ہیں۔
کتاب میں کچھ مثبت پیغامات بھی ہیں، جیسے کہ امید اور طاقت۔

