نام مصنف: طارق اسماعیل ساگر
نام کتب:لال مسجد آپریشن سائلنس
لال مسجد آپریشن سائلنس 2007 میں لال مسجد، اسلام آباد، پاکستان میں ایک مسلح تصادم تھا۔ یہ تصادم 7 جولائی کو شروع ہوا اور 10 جولائی کو ختم ہوا۔ تصادم میں 102 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں 54 پولیس اور فوج کے اہلکار، 27 طالبان جنگجو اور 21 شہری شامل تھے۔
تصادم کا آغاز اس وقت ہوا جب لال مسجد کے طالبان رہنما عبدالعزیز نے مسجد میں طالبات کے ایک گروپ کو اغوا کر لیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ شادی کریں یا اسلام قبول کریں۔ حکومت نے طالبان کو طالبات کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن طالبان نے انکار کر دیا۔
حکومت نے آخر کار لال مسجد پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 7 جولائی کو، حکومت نے مسجد پر گولہ باری شروع کر دی۔ طالبان نے گولہ باری کا جواب دیا اور مسجد کے ارد گرد کے علاقے میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
جھڑپیں 10 جولائی تک جاری رہیں، جب آخر کار طالبان نے ہتھیار ڈال دیے۔ تصادم میں 102 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں 54 پولیس اور فوج کے اہلکار، 27 طالبان جنگجو اور 21 شہری شامل تھے۔
لال مسجد آپریشن سائلنس پاکستان کے تاریخ میں ایک اہم واقعہ تھا۔ یہ ایک ایسی جدوجہد تھی جو مذہبی آزادی اور حکومت کے اختیار کے درمیان تھی۔ تصادم نے پاکستانی معاشرے میں گہرے اثرات مرتب کیے اور اس نے پاکستان کے مستقبل کے لیے کئی سوالات اٹھائے۔

